Surah Nisa (Ayat 122-133)
Fi Zilaal Al Quran:
و09 و | و 2 و سے ےل کہ ہد و "ءا ا ےردے ل 7 سے و
72 وَالفِمْتَامَنوا و گی لوا الصلحت سَنلْجِلهُم جن تج ری من ینا الا ہر خر فيا ابا وغد اوقا ومن
١
لل »و
آَضدَق ينانويلا ©
ر ے ولوگ جو امان نل ےآ یں اور تیک مم لکرمں ' نوا ہیں تم اہہے با ھوں میں واغ کر ہی کے جس کے نے خہریس کب مموں کی اور وہ وہاں
بیشہ یہ ر ہیں کے مہ الل رکا چا وعد ہے اور الد ےڈ ھکٴ رکون ای بات ٹیل سی م وکا
(آ یت ) * فُر۱٢۱٢ج۲٣٢۱۔
اور وہ تم جس سے اولیاء اطا نکو بھی پچعلکارانہ ہوگا۔ دوس رک جاب جنت سے شس میں خدادوست پھیشہ ر ہیں گے (۔۔ ومن اصدن ہن
( ال یلا ( ۳ : ۱۴۲) (اور اللہ سے برح کم ری با تم کی موی
اشک بات مطلقا کی ہو بی سے جس کے متا بے بیس شیطا نکی بات فریب اور بجوٹ ہو کی سے اور جو لوک حیطان کے متھوے ویروں ٹن
آ جات ہیں اور ج ل وگ الہ کے کے وعرے پر تعب نکر ے ہیں ان دونوں کے مو فف میں بہت بی بٹرافرقی ے ۔
ای کے بع رق رآ نکر بم ل اور جڑاے ل کے بارے میس اش کے مم اور ناقاب آخ راصو لکو بیا نکر ا کہ واب و عقا بکاواروی رار
شحض خوا نات ی اور تمناؤں یر نیس موا _ ڈو اب و عقاب ایک تغل سنت اور وا کی اصول پر ن ہوجاسے اور و ایک ہاییت بی شثبت
تالو ہے ۔اس تالو نکااطلاقی تمام امتوں می ر ہاے 'اس ل کہ اٹہ تال کے س تھ یکات نسب ماتا ے اور نہ یکی کے سا تج انش کی
رشن داری ے اور تیا لکوگی یں ےک ای کے لے اس اصول کو کی ر یک ہے اا سکیوجہ سے سنت الہ می سکوکی تبد ہی تخلف
ہوگا۔ یا ای کے مفاد میس انون بدل جات کا جو براکمر ےکا وہ جڑاے بد سے دوچار م وگااور جا چا کر ےکا وہ جڑاے خر پا ےک خر
یی اکر و کے ویہا برو کے اس میں نہ ووک سے اور تہ اظ ۔
125-123: لیس رأمائیگوٗ امان آمل الک4 AEs ر بهاو لهند وَنِاُوِوَلِقَاوَلَانَمِیُرا
َمَنْيَعْمَلوِنَ الطٰلِحٰتِە وِن٥ٌّگُرا َء هُوَمُوْمِ يف ولَكَ لكَيَنْخُلَوْنَالَنَةَوَلَايْعْلَیْونَتیڑاہ وَمَن أَحْسَن وان
الم هرل وهو تن ؤَتَيَم ماروي ويفا اَل الئرترجِیم عَبلا
انا مکار نہ ہار یآ زوو ں یر مو قوف ہے تہ اا لکنا بک یآ رز وو پر جو بھی برا یکر ےکا کا پیل پا ےکااوہ ای کے میس اپے لیے )
کون عا ئی دم دگارنہ پا سگا۔ اورجو نیک عح لک ےکا خواہ مرد ہو یا عورت ' بش میگ ہو وہ مو ن نذا یی بی لوگ جنت می داشل ہوں گے
اورا نکی ڈرو ار کن ھی ن ہدئے پا ےگی۔ اس فی سے اتراو ہک ں کا ط بی زی گی ہکن ہے جس نے الہ کے٦ کے لیے کرو
(اورایتار ور" نیک رکھااور یکس وکر اراتم ( ( علي السلام) اکے رت کی یرو یی
(آت)" ۵۷۰۱۲۳٢۱۔
پوو اور صا ری کے تھے (آیت) "( ن اہنام الہ وا اہ) م الہ کے ہے اور محبوب ہیں۔ اور ہے بھی کچ تھے (آ یت ) "لن تسناالنار الا
ابامامعدودۃ) ”ہی ںآگ نہ مو ے کی کر چنرونوں 2 لے اور یہو ی پآ کک اہی ےآ پکو ال کی تار م کے ایت
ہو سلتا ےک خض مسلمانوں کے ول میس بھی ہے با تآ ف م کہ د ایک اسک امت ہیں سے ترام ل وگوں کے لیے کا گیا ہے اور اد ا نکی تمام
فلطبو ںکو موا فکر و ےگا اس ل ہک وو لمان ہیں
2
ہآ ستاے ایے بی حالا تک تد بر کے لے اتر یک وونوں فرلیقوں کے ہے خیالات درست کی ہیں ۔ لوں پرس بکا یی ڑا ار ہوک ۔ ممام
کے یں یا معیارے۔ وہب ہک لوگ سب کے سب الل کی طرف متو ہوکر مر لیم مکرسی بایت بی اچک کے سا تجھ ایک
عبات سوہ کے اصولو ںکا اتا کر جو ین الام ے ۔ اس لیے اہر ایم ( علیہ السلام )کو الد نے اپنادوست بنایا تھا ۔
3
کہ بین وین ' وین ممت ابر ایی ے اور “رین عصل ' کل اسان ہے ۔ اور امان ہے ےک تم اشک بن دی اس طر کر وگو )کے تم اسے دکچھ
رے و اور اگ رت اسے نیس کے رسے فدہ ہیں کے ی راہے۔ الام نے ہر معالے میس احا کو ید نظ رکھاہے۔ یپاک کہ ذجچہ کے
لیے بھی اسان بی نکیا ےک آلہ فن تز ہو کہ زع کے وقت چاو رکونکیف ز یاددنہ ہو۔ ا سیت میس اسان کے دو اصتاف کے در میان
تھی اتال اور جتزاے اال کے بارے میس مل مساوا کا اپا ہکیاگیا سے ۔
(آ یت )"ومن مقعمل من ایت من کر اوانٹی وعو مون ذاونک برخلون الت ورمون نق را( ۳ ۱۲۳ (اورجو تیک لکر ےگا"
خاو مرو ہو با عورت' اش طیل ہدوہ مو اڑا ہے بی لوگ جنت میں وا قل ہوں کے اورا نکی ڈر وار ن ی د ہے پا ےگ)
ہے ت صرت ےکہ مرداور عورفوں کے ور میان اکال اور جنزاۓ امال کے اخقبار ےک وک فر وانشیاز ہیں ے۔ اور ہے س اس بات یل
بھی ص رت ےکہ ایمان کے بخ رکو تل تول نہ م و اور ےک اش کے نز دی کی ام عم لک یمکوکی قد دو تمت نیل سے جھایمان پر کید
ہو ا٘ٹس کے سا تھ ایمان نہ ہو اور ہے بات خہایت ہی ہی اور فط رک ہے ۔ اس لی کہ صرف ایمان بی سے اس با ت کا تین ہوجاب ہک گل
کر کے وا اکس نظرپے او رسس نیت سے ہے گل کر دہاے اور صرف ایمان ی کی عم کو وا کی اور فط ری بناسکنا ے وریہ مل کش واف اور
ی جوش ہوگا۔
نا ان ان کک ا لکل خلاف ہیں ج ںکااتلہار ڑم ملق مجر عبرونے تقبیر پارہ عم می سکیا ےآ یت ( من مل شال ذرۃ
نایر کے تحت انھوں ن کہا ےکہ سآ یت میں کلم اور قر م سب شا ل ہیں ۔ یہ اور تلام دوس ر یآ بات اس کے غلاف ہیں ۔ ای
رح استاد مرا یکی رائۓ بھی درست میں سے جس پر م نے تیسویس پار ے میں انظہار خی لکیاہے۔
اللہ تھا یکا ہے فربان مسلمانوں پر بہت بی گراں گزراتھا۔ (آیت )”من مل سو ای ہہ ولل لہ صن دون ایند ول ولا تشحیرا) (۳: ۲۳) وہ
اناف مزا کوا بھی رح جا ۓ ن اور ا کو لین تاک انسان سے ۔ راکو ںکااد کاب م وکا چا ےکول ینای نی ککیوں نہ بین جاے اور ڈھیر
یا نکیا لکیوں کرے۔
وور اول کے لوگ شس اناف سے ابی طرح واقف تے۔ دہ اس ےآ پکو بھی ا تھی ط رح جات تھے دہ اپ ےآ پکو وو کے میں نہ ڈا لے
تے اور اسآ پ سے ہہ بھی نہ چھپباتے ےوہ ای سے بھی تشم وین ہک ے تک لت او قات ان سے غلطیاں س رزد ہو کی ہیں اس لیے
وہای ی کوتا بیو ںکانہ افکا رک کے تے اور نہ بی ا کو چھپاے تھے می وجہ کہ ال سآ بی تک نکر وکاپ لے جب اخھوں نے دی اکہ پر
ہے لکی ا یں مزال ےکی وہای طر کان پ گے سگو اوہ مبیران حش میس ہیں۔ وہای ھول سے اسے دکچھ رہے ہیں ۔ بی سے
کرا مکی اتا زی خصو یت کیک ووآخز تکواس طرں حو کر ے تھے جس طرں تم عام وسا تکوکرتے ہیں۔ وہ تو رآخرت اور گر
آخرت میں اس طر زن ہہ ر جھ جس رج تم اس ونیا سے ہیں کش اس وجہ س ےک د ہآ نے وای ہے بلمہ ای یر ئک ہگو ماب پاہے۔
بھی وج س کہ وہ ا سآ بی تکو صنتے ب یکا نے گے تھے۔
امام ام فریات ہیں :خضرت اب ویر ( رض ) نے فریایار سول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآ ل و مم )ا سآیت کے بعد فلا یں رح موی ؟ ال
فررات ہیں (آیت) "لیس با میم وا می اح التب م مل سوہ ینب ”( : ۴۳) (م نے چو بر ائیا ںکی ہیں ان پچ یں مزا گی ) اس پر
ئی (ص٥لی اللد علیہ آل و کم ) نے فربایا :''اب ھب اللہ ہیں معا کر و ےکی ت بہار نی ہوتے کی تم کک نیس ہو کیا تیر یٹان ٹنیس ہوتے'
کیا ئ مآ ہیں یں بھرتے ہو ؟ ”وا نھوں ےکہا'ہاں اآپ نے فرمایاقذاان چزوں پر بھی ہیں جز اوک جا ۓےگی۔ (ددایت حا اواسطہ سفیان
ری)
ا وکر ا٠ مردوب ہک روابیت می کہ حفرت ال وکر فر کے ہیں جب ہآ یت اترک فیس حضور ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا
ایت )"من مل سوہ یہہ ولک لہ صن دون الد ولیاوا تی را“”۔ (۴: (۱١١ (جھ بھی براٹ یکر ےگا ا کا پل پا گا اور ال کے
(قالے میں اپنے ل ےکوی عائی دمددگار نہ اس ےکا
تور سول اللہ ( سی اللہ علیہ وآ لہ و سلم) نے فربایا : ابوک ہیں بناؤ ںکہ اک یک یا یت اترک ے ؟ نوا ھجک کے ہی ںکہ میں ن کہا ضور
(ص٥ل اللہ علیہ وآ لر وسلم) با یے حضور ( صلی اللد علیہ آل وسلم) نے مھ ہآ یت یڑ ھکر نای فو معلوم ہیں ہیں نے اس طرں حو یکی اک
مرک ہے یش یھ ٹوٹگیااور میس سیر ھا وگیا۔ اس یر ر سول خدا( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے لو چھا: "ا وج ر می سکیا وکیا ے ؟ "میس
آپ پر قربان ہوں' ہم یں ےم نے راکم ی کیا ے او رآ ی تکا مطلب نے ہے کہ ہیں تنام بر ےکا مو ںکی
زاوی جا ۓےگی انس پر ر سول خدا( صلی اللد علیہ آل وم ) نے فرمایا: "ال کک تم اور اٹل ایما کو ای و تیا ج اوک جا ےک بیہا لک کک تم
ا رکوس حال بیں مو کے ےک تہاراای گناہ بھی نہ ہوک رے دوس رے لوگ ا نکی سیا دکاریاں جح موک اور قیامت کے ون ا ہیں ا یکی تا
دی جا ےکی ”(دوابیت تر ی)
کہا صہرے ہاں با پآ
رت ماکشہ (رض) نے حضور ( صلی اللہ علیہ وآ لہ و سم ) سے عر لکیا: حضور ( صلی اٹہ علیہ آل وسلم) مھ ترآ نکی خت تری نآ <
معلوم ہے۔آپ ( ی اٹہ علیہ وآ لہ وسلم) نے فرب کون می ؟ نہیں ن ےکہا۔ ( من تمل سواہ کی ) (: )۱٣۳ وآ پ نے فرہایا :کہ بندہ
ومن پر مصائ بفآتے ہیں۔ ”(روایت امن ہے )
خضرت الوب ریہ( رم ) سے دوایت س کہ جب ی ےآ بیت مازل مو فی( کن نول سوا کی ی ) ( ۳ : ۱۲۳) ( جس نے کی ,بر اٹ یکی اسے ا یکی
اوی جا ۓےگی) ىہ بات مسلمانوں پر بہت تی گراں گز ری اس پر ر سول خدا( صلی اٹہ علیہ وآ ل وم ) نے فربایا :"ور میافی قا عل بن کر واور
ایک دوسرے کے قریب ہو ہاو“ ای ل کہ سادا کو جو محبوبت مھ یآ فی سے ا لک وجہ سے ای کےمناہ معاف ہو جات ہیں جو مصییبت بھی
ایرآ سے بیہا ںک کہ ای ککانا بھی اسے کے ”م مترری 'نساکی)
بر حال ےآ یت اسلائی تقورات اور اییانی طز کک کی در ق کے لیے ایک ا مکی کی ا کا وجہ سے ایک اذامل دی نکیا سور درست
و اور دوس رک جاتب ا کا ل درست ہوا۔ ا لآ یت نے ا کو خوب کنو ڑااور ان کے و ل کاپ اھ 'اس ل کہ وتر مکو تہایت
ہی ی ری کے ساتھ لیے تھے دہاش کے وع ےکی سای اور اس کے اویہ مل کے جانے کے بارے میس بہت بی ا کی طرح جات ے۔ وہ
ا سرت و ر کاو وا کت من ان ے الاک وول وگ ا کی ای وا شس ے_
او رآ غ اغنام ےآ ے ' مق اییان و کک اور ایال ا ے اعمال کے بعر رک ہآسمافوں اور ز میوں میں جو پر ے وہ ال رکا ے ۔ اور الد
تیل اس وااو رآ رت وولوں میس مام ر وو ےد
e” ۶ 2 و 7 1 23
6 وَلوِمَا ف السيۈت وما ف الار ضغو کات الکن کی ٹیا
(آسمانوں اور ز بن بی جھ گے ے الل رکا سے اور اشر یزیر کیا ے۔
(آ ت ) ر٣ _۱٣
رآ نکر یم میس جہاں ہے با تآ فی ےکہ الد ایک سے اور وی الہ ے اس کے سا تھ ہے بات یآ فی ےکہ ونی مانک اور ہیا کی ے۔
گا )ق با شاو او رکنزو لک نے والاے۔ نس الا ما نظریہ فےحید صرف ہے کید ےکہ ذات ٹیل اٹہ وعدہ لا ش یک ے بللہ
وہ شت لو حید سے اور ان کا نات میں فا کل اور موش بھی وبی ے اور علومت اور ہبی کی ا یکی ے۔
جب س اناف کے اندر ہے شحور پشتہ ہو جاتا کہ زان وآ سماتوں ٹیل جو بے سے وہ الل ہکا ے ادد وومر چ کو اپنے اعا سے میں لیے بہوئے سے
۔کوکی نز خدا کے م اور ا سکی سلطنت سے ہار یں سے وای ط رح ایک انان اس اھ رپ بسمول تآمادہ ہو چاتا س کہ وہ الث کو ایک الہ اور
اکم تل مک ے اور صرف ا یکی بن دک یکر سے اور پچھ راڈ کور اض یکر ےکی سب یکر ے اور اٹ کے احا مکو تل مکھرے۔ اس لی کہ سب ہے
اس کا ے'اس کے ت می سے اور دەپر نیہ کیا ے۔
بض فلس ا ہے ہیں جو الد تیا یکو واحد مان ہیں ' مین اس عقیرہ تذحید کے بعد ىہ فلغ ا کر ای میں تلا ہو اچائے می ںک اللہ صاحب ارادہ
یں ے۔ لت کے ہی ںکہ اٹ رکا عم یں ہو جا حش ایل کی کور کو لیم خی ںکرتے ٠ض ادن رکی اہ کو لیم خی ںکھرتے۔
(فصیاات کے وککےے فلاسذہ کے خرافات) چناغچہ فلاف کے نز ویک خد اکا تصور ایک شض فی تصور ہے _ اس تصور میں لوگوں ۷ 0
ارک کوئی اق ہیں ہے۔ نہ ان کے ط رز کل اوران کے اغات ی ا کوک تصرف ے 'فلاسن کی تید س کلام ب یکلام ے ۔ لین اعلام
ٹس ' اش دہ ذات سے جو ز من وآ ا نکا الک ے للذ اوہ مر چک الک ے اود دمم نز پہ میا ے اور وہ مبان سے لہ ااس مور کے زی سابہ
تی رکی اصاںح؛ رز کی اصلاںح اور بو ری زن دک یکی اصلا نکی جاعتی ے ۔
و لَه و تزحبُوت آن دوهي وَالممتَضعَغن دن اولان أن تمالا اوش وما تَفْعَلْاِن خَنْرِقَإِكَاللة
29
اوگ تم سے عورنوں کے معا لہ میں فو ی و کے ہیں ۔کہو اد تال ی ہیں ان کے معاللے میں فتویی و یتاے ' اور سا تج بی دداجکام کی یاددلاتا)
ہے جو ہل سے ت مکو ا ںکتاب بی سنا ار ے ہیں من وہ اام جوان سیم لڑکیوں کے متحلق ہیں جن کے ہن م اوا ںکمرتے اور جن
کے نیا حکرنے سے تم باز سے جو ( یا لا کی مایم خودان سے میا کر لیا جاتے ہو) اور وہ اجام جو ان بچوں کے ”اق ہیں جو یھر ےول
زور ہیں رکتتے۔ الہ یں ہدابی تک رتا ےک جیموں کے سا تج انصاف پر قائ ر ہو 'اور جو لای کرو کے وہ الہ کے م سے ہی نہ رہ
(جائ گی
: ور ین ن
اس سور کےآ از میں اعلام نے جاعی عاش ر ےکی اصلاع کے جن کا مکاآ ا زہکیاتا یہ سجقی ا یکا ایک حصہ ے ۔ اس اصلا کا تلق عورفوں
کے حعقوق اور نماندائی نظام کے سا تھ ہے ۔ ایک خاندان کے ت می جو سے پیا ہو کے ہیں ان یس ے من میم رہ جاتے ہیں ان کے
س اکل اس بی نے گے ہیں اسلا معاش ر ےکوتخبی ہک یگئی ےک ان ماک کے انر جاہلیت کے دو رکی ج ناجموار یاں ر کی ہیں ا یں وور
کاک ا کو اس اسا ںی انٹھابا جا ےکہ اس کے اندر مر داور عورت وولو کا حرام ہو 'ووٹوں یفن لرا 2
ماندان کے اندر جو اختلافات پیر اہو جاتے ہیں ا نکی اصلا کی تد ایی ر اس کا موضوع ہے من اکر اختلافات موں و مواملات کے پگاڑ
سے للہا نکی اصلا کی جاۓ اک مگھرانے ٹوٹ نہ با یں ۔ صوص وہ ےجا نگھرانوں ٹس پیدرا ہو کے ہے ہیں اور انان ان کے لیے
رس رک ہوجاہے ا کی تیب ہو کے ۔ نیز مام معاشرے کے اندر زیړوست ل وگو ںکی دکھ بھا لکیا ہاے جاک ہے نہ پ کہ نالب اور زو رآور
لوگو ںکا تالون عل اور جن سکی (ا کی ا سکی یٹ کا وور وور و ہو_
ہے سی نس معاملا تک اصلاح اس طر حکر تا ےک ایس نظا مکا سات کے سا تھے ربو کرجا ہے۔ جس ے حخاط بکو يہ اور ینا
مطلوب ےکر عورفوں "کم رانوں 'مانرانوں اور معاشرے کے اند رکروروں کے ماگل موی سےا یں ہیں۔ ا نکی بہت بٹرکی انیت ے
ہم سک فیلات ہم اس پارے میں دے کے یں۔ پادہ ارم کے مقر ے میں ' ہم صییل کےا یا نکر گے ہی ںکہ الام میس اند انی
ا مک وتش تیم امیت و یی ہے۔ ادر کہ اسلائی نظام نے ادا ادار ےکو ابی تک روم بد سے پا کک نے کے ل ہکس قزر تیم
جدوچ دکی ے اورکس قز رکو لک ےکہ محاشرے کے اندرلوگو ں کی اغلاق نشین اور اجا ی کو بلن دکیاجاۓ ماکہ اسلای معاششرہ
ان تام ماش وں پر فوقیت ما کر نے جو اس وقت اس کے ار وکرو سیل مو سے تے۔ جو ورن اسلا مکو قیول ہک نے تے اور نکی ترببیت
اسلائی مضہاع کے معان نہ کی اور ج اسای نظام کے زیر علومت تہ ے_
اب ذراتفصیلات کے سا ھ زیر بح ٹآ یا تکو سے _
: ورس رام شرآ مات
۱۳١ _۔۔٣-۔ے
(آ ہت)" تُجرے۲٢۱۔
سور انسام کے اینقر ای جو بات نازل ہو گی یں ا نکی وج س ےکی سوالات پیر اہو کے تے اور لوگ سوالا تک یکر کے تے۔ لانو ںکی
ہا سے ”اسلائی معاشر ےکی لیل کے اب ائی وور میس ملف سای کے بارے می سوالا تک نامیک عام پ جیٹس کی اور ا سک تہ یل ہے
جب کار فریاتھاکہ وہ اسای نظام زت گی سے حلت ایام معلو م کر زا جات سے اس لی کہ جابیت سے اسلا مکی طرف تل ہو ےک کل
ورا ل ا نکی ز نرگیوں یں ای کگہراانقلاب تھا۔ ا یکی وجہ سے ان کے شحور میں جاہلیت کے دور بیس ہونے وانے تنام افعال اور ر سول کے
بارے میں شک پیراہوگیاتھا۔ وو ہر وقت ہے سو سکرتے ت ےک کی یآ مہ مھا سے میں اعلام نے سای یر شسکو ضور ہکردیاہو۔ ہے
بیرار کی اور اسلا اجام کے مطا بن ا ناگ کو ڑا ےکاجذہہ ان حضرات کی ایک عام صفت ا بوجوو ہجنخ سآ ار جاجیت ا نکی
زئ گیوں میں باقی تھے ۔اصل بات ہے س کہ ان کے اندر ایک قوی زی موجود تھا'ن٘س کے مطابقی وواپٹی زن گی کے تنام حالا کو اسلام کے
معان عا لے تے اور اس روح کے سا تہ وہ ینف اجام کے بارے میں اتضارا تکرتے سے ےکا م وہ تح م و قات اور حش سوا کی
اط ر کرت تے جیہاک ہآ کل تق رات کے پاس اک سالات شض حصول علم ثقاوفت کے لے ہوتے ہی ںکوگی کک کر نے کے لیے
اس وقت مسلمافو کو و بی ما آل کے او جن ےکی تی یت کی تی ان کان سے لس سا نظام ناور وہای کے
مال و چپنے کے معاملے میں ہت بی س رگرم سے , مقصد ہے تن اکہ ا کی کیزن ہی احکام دین کے مطابق بین جائے۔ دہ جالیت سے کے کے
نے گمزررے تے اور جاہلی تک تام عادات وتقالیر اور او ضا واطوار ے نا نف تے رکہیں کون بات نظام اسلام کے خلاف نہ ہو_
اعلام ان کے انر جو خی ر اور انقلاب ہر )کہ دیا تال کے بارے میس دہ بہت بی حساس تھے ۔ دوسرے الفاظہ ٹیش اسلامم نے ا یں ان کے
اس سے عزم اور الام کے بارے می الن کے وش دخ روش ی و سے عا۔ وو این شک می کہ ال دکی خاس عابت اور وج ان کی طرف
مپزول ہو کی ذات ہا رک نے خ وہر ام راست ا یں ان کے اس استتفا کا جو اب دیا۔
(آ یت ) * (و حتفت وتک ف الضائ) ( ۳ : ے )۱١ (لوگ تم سے عورفوں کے معا لہ میس فی پوت ہیں ) وہ لور سول اٹہ ( صلی اٹہ علیہ وآلہ
وسلم) سے بو کے سے اور اللہ تعالی خضرت نی ( صلی اٹہ علیہ وآلہ وسلم) ےکی تے : ہو الد یں فقوبی وےے ہیں تمہارے سوال اور اہ
وولوں ا مور کے بارے میں نی کا کہ ا سآ یت میں ہوا ہے۔ یہ اش تال کی وہ عتایت سے جم سک قد رو تمت سیا ہکرام بی جات تے۔ ال
تال نہایت بی ہا بایت بی عزت اف زا کے ہوۓ بزات خود ججراعت مسلم کو فقوی و ےے ہیں اور ہے ال دک جاب ے نیاہت بابندہ
پروی اور مہرباپے اور بندو کیا جد یر زن گی کے لیے ضروری سوالو ںکاجواب خودد یا جار ہاے ۔ یہ سوال ان مکی عالات کے بارے میں تھا
جو جاب لیت یل ر وز مر ہکا مول تھے وہ جاہلیت جس سے لو جن والو کو ایئہ اور اد کے نام نے الا تھا۔ دوسرے ہے صوالات ان امو ر کے
بارے یں تھے جن کے ذر یج جد بر اسلائی معانشر ےکوعزی ر ترق و ینا مطلوب تھا۔
یت ) " ( قل ایک یمن تی یک فی کنب ف تی اشر ال تن اب لسن رت خرن ا مع ھن وا تین من
(الول ران وان تقو موا ی ایا ( :ے۱۲
کپو الہ ایی ہیں ان کے معا ے میں فی وتا ے 'اور سا تج بی و احکامم بھی یاو لاتا ے جو مکیل سے ت کو ا کناب میں سنائۓ جار ے )
ہں_ تن وہ اام ج ان میم لڑکیوں کے متحلق ہیں جن کے تن م اوا ی ںکرتے اور جن کے کا ںکرنے سے تم باز ہے ٢ہ ( یلا کی ای
تم خودان سے کا کر لینا چاخ ہو ) اور وہ احم جو ان پچوں کے لق ہیں ج بییار ےکوگی زور ہیں رکت اڈ ہیں رای تک رتا ےکہ
(ھوں کے سا تھ الصاف پر قا ر ہو
لی این ابو ایر نے ضرت ابن عپاس ( رض ) سے ا آبیت کے بارے میں ق کیا ےکہ جاہلیت کے وور میں جس کے پاس سیم لڑکی ہو تی
'دد اس یر اپناکپٹراڈال دبتا'جب ودای اکر لا نواس سیم لڑکی یک تن یی یی ا رکا تفم انت
پن رکرو وہای کے سا تیم خود ڑکا عکر لبتااور ا کا ہا لکھمارنا۔ اور اکر پر صورت مون ووو سے ل وگوں کے سا تھے بھی ا سک نیا کے
کی اجازت تہ دتا ببہا لیک کفکہ وہ مر چان اور ہے اس کے ما لکا وارٹ ہوتا_ اللہ تائ نے اس کا رام قرا دیااو رآ نرہ کے لیے ای سے مع
تا ےھ دی DOE ھت سض مات NE
ورا کرو بیو ںکو ورات میں سے جن نہ د ہا جات قوااور نہ کیو کو دبا جاتا تھا۔ ایند تا ی فریاتے ہیں ا رت
ا
مقر رکرو یاو رکہاکہ روک حص وو کورلوں کے براہرے خواہ عورقول چون ہوں بابک موں_
سعیر بن جییر (ر )کے ہیں (آ ہت )* (وان تقو موا تی بالشیا ”م :اک شیر ہے ےکہ اکر یم لڑکی مال ار اور خو بصورت ہو لو
و ی کہتاکہ یں اسے اپنے ے چن لبت موں اوہ ای کے سا تج کا کر اتا اور اکر صاحب مال وجمال نہ ہو کی لوا ے دورول کے مکاح یں دے
دتا۔
(آ یت ) “ و سفت وکل ف السا نل اریم ن جار (وتزخبون ان کون ) کے پارے می جرت عائشہ ( رش ) فریاقی ہیں د
ا می کے بارے میں سے جس کے پاس م ری مون وہ ا کاو لی اور دارث وجا دہ ا سے اپنے ال یش ش ری کک ق یہا ںک کک
ور کے اس کے میں بھی ج وکیا نے کے لیے فو لیا اتا وو اس کے سا تد وکا کر نا بھی ند ن کرت ھا او کسی دوس سے تنس کے لیا میس
تھی نہ دبا تاک دہ اس کے سا تج مال یل ش ریک نہ ہوجاے۔ اس ط رع وہ عورت کل ر تی ( ہار ی مسلم)
اک الو عام (رع) نے عمرووامن زیر زر )سے خضرت ماک ( رض )کی الیک ددم ری روابیت شل لیے فک نر نت وا
(رمص) نے فربایا:* ا سآبیت کے بعد لوگوں نے رسول اٹہ ( کی الد علیہ وآ لہ وس٥م) سے ا یت کے بعد دو باروان عورفوں کے پارے
س لے اڈ ےآ یت نازل موی
(آیت) ٭وستفت وک ن تہ قل ای یم ٹین قل ٹر کیم ین و تی لیم ی اکب ”۔ ( ۳ :ے ۴
حضرت عائیشہ ( )بی ہی ںکہ ا سآ بیت می مہ ج کہ گیا ےک جو تی ہکناب ٹیل یڑ سا جاتا سے ( ن سابقہ احم ) تو ای سے مراد وو سابقہ
آ یت ے تن یت ) "ون تتم رر تقو ری الیتای فا کو اطا بآم من السا ”_ تی اکر وہ صاحب ال و جمالی تہ ہوں اور تم ان کے سا تر
ناب نکر نا چات ہو۔ اور اکر وہ صاحب مال وبمال موں اور تم ان کے سا تھ نکا کہ ناچا ے ہو صرف ما لکی غر ل ہو فو الت کر والای کہ
عل کے ساتھ ا کہ نا ہد ان اعادیٹ اد ر ترآ فآ ات سے معلوم ہوجا ےکہ جاہلیت کے وور می سکیاہورہاتھا۔ خصوصا سیم نوچوان
عورتوں کے سا ھ ۔ میم کی کے سا تر و کی طرف سے مال ددوات میس بھی بے اماف ہی اور اس کے مہ ریس بھی اس کے سا تر نز یادٹی
ہوئی اس کا مال لٹا جاتااور اکر وہ بد صورت مون فا کا مال کی نپ ہوتاادراس کے سا تھ ما بھی نہ واک دو سے کے نیا میس
E کک کے کن E نان کی ےر تی وو
می حال کچھ وٹ بیوں اور کیو ںکا ہوجا۔ ا کو مبراث سے ځرو مکرد با جاتا۔ اس لی کہ وہ یف ہوتے تے اور وو اس ما لکی بر افحت تہ
کر کے تھے یادو جنگ ن ہکر کے ۔اس لیے ان کے ل کو ہن باحصہ نہ ہوم اور ىہ تی کی ضور حیات کے مطا ان ہوتا ج نکی ابن تمل
کے تلام اموال حت کر نے والوں کے لیے ہو اور یول کے لیے ہے نہ ہوتا۔
ہے تھے وہ یروک اور پر نما رم ورواج ج کو الام نے تپ ر یکر ناش رو عکیاادر ا نکی تہ ترق بافنۃ رآ ر م ٣ی 00074(
ایی نہ شیک گو با بت ہی تیزی سے بور لانک جمپ مہ انقلالی تبد ب یک کی اور عربی معاشر ےکو ایک ترق بافنۃ معاشرہ ہناد گیا باک یہ عر بوں
کے لے ایک نیا جم تا۔ ا نکی حتیق یکو بد لک ایک ی یقت ا کور یی _
یہاں جو اہم بات چم د بای لا نا چا سے ہیں دہ ہے س کہ ہے نشاۃحد یر کی منص وبے کے تحت نات امہ نہ شی اور نہ اس کے ل ےکوی اص
منصوب بنا گیا تھا اور تہ منص بے کے ل کوک ابت دای تیار یکی کی کی بے ترق کی مادی تی ب یک وجہ سے ہو کی کی اور صرف ع ربو ںکی
7 ا
اس ل ےک یقت کلت کے چاای سب محار ب کو مفسو نکر کے 'اا کی جک اناف اساس پر ہن عللی تکواستوا رکر نا ےم اور عورت
کو بھی اناف حقو خطاکر ناشن اس وجہ سے نہ ناک معاشرے ی اوران تی ے ا ےی وت ر ادان
کر زابھی اتم عائل تہ ربا تتا ای وج ےج قوت رن وانے افراد خان دان ا نکی اتی زی حیٹی تکوش کر و گیا اب خان دان والوں کے لیے
ي گرب ENI Ea O
ایا رگ زنیں ہے۔اس سل کہ اسلائی دور مس بھی ج افرادکی افرا کی ایت اپی کہ تام تھی ۔ ا نکی ضر ورت بھی تھی کین جوفرق پاوہ
ہے تاک اسلائی نظا مآگیا تھاادر ہے اسان کے لیے ایک جد ید جخم تھا۔ ہے جم ای فکتاب کے ذر ےچ مل تھا۔ ایک نظام سے ا ہیں ہے جم ملا تھا اور
جد بد معا شر ہا جد بر نظام نے تا مکیا تاور اک سرز ین پر قا مکی تھاجنس پر چاہلیت ان تی اور ای حالات یل جن یس ذر الج پیر ادار کے
ا و کس ا او بللہ تصور حیات اور نظرى حیات کے ائرر انقلاب پیا
ہوگیا تھا۔ اور ہے انقلاب شض اس آظریے جد روک وجہ سے ہواتھا۔
بی بات ھی جقیققت یک اسلائی نظام نے لوگوں کے ذہنوں اور طرز گل سے جاہلیت آنا رکو مٹانے کے لیے طول بین جد د جج کی
اورا نکی چ اسای تضو رات اور اسلائی عادات واطوار ٹا ےکیلنے خلت محئ کی _ ہے بھی حتقیقت یک جاہلیت کے حض اطوار ا کی کیک
اپ ےآ پکو بانے کے ل ےکوشاں تے اور مع انفرا وی حالات میں ا نکاپچھر سے مور مو جاتا تھا۔ ہے عادات واطوار تاف شکلوں بی ا سے
آ پکوزندہ رکھناجاتے تے۔
ہے بھی مقیقت کہ نظام جآ انوں سے ناززل ہوااور وہ تورات جو اس اظام نے عطا کے می ذ جا ہبی کون وہ سے اگما ےکی سی میں
مصروف تے اور ہے بات تہ کہ بای صورت حال با ای کے اندر موجود تضادات اس بد ہی میس موش تھے با ذ راح پیداوارم کوت ہر بی
ی کی اا ی ی ات ات ا ی کرت موا کان ر2
عرب قو مکی زن ری میں جو ی یر تھی وہ ورین ی جو عالم بالا سے ان یر نازل موی ی ۔ اس پر گن نفو نے ابی ککہااس ل کہ وہ اناف
فطرت سے کلام کی اور ہے فطرت پر انسمان کے اندر موجچوو ی _ می وچ کے ہے م انلاب رو نماموا بک انا کو ىہ ناخ ملا جس نے
زن ری کے تتام خد دخمال برل و ےہر بل سے برل دئے اور حا لیت کے لو خھام نشانات مٹاوہے۔
U E NECE EL تدر وام اور
بانیاں کی و یی ہموں ہے سب پگ ھآ انی رسال تک وجہ سے ہوا۔ ایک آظر نی اور اناد ضور تھاجو ای انقلاب کے لیے پہلا او رآخ ری
ٹیک رتھا۔ بللہ اس نے جخم کے لیے ونی اول وآخر عا ٣ل تھا۔ ب رکیا موا؟ پچ راس انقلا بکا و فان صرف اسلائی ماش ر ےکک بی ر ود تہ دا
بللہ اس نے پور ی انسای اق دار اور تام انسالی معاش رو کو اتی پیٹ مم نے لیا۔ می وجہ س ےک اب اعلام نے ر سول سے و صرف عوروں کے
بارے میس لو ھا تھا اور الہ نے ان عورفوں کے علاوہ یم کیوں؟ وٹ بچوں اور ضحیفوں کے جن کے بارے میں کی جواب د یا تھا وای
سوال وجوا ب کو اش تتا نے اس مصدر کے سا تجھ باندھ دبا جس کے ذر بج سے ہے انقلا بآ یا تھا
(آیت) وفعاو ہی خر فان اوران پہخلہدا ”۔ ( :ے ۱۴) (اورجھ بب ھلا کی ت کر و گے وو اللہ کے کم سے ہی نہ رہ جات ۓگ )
و بھی ت مكکرو کے وہ نا محلو م نہ رہ چا ےکا ضا نہ ہوگا۔ الد کے ہاں د بپکارڈ ہوگاادر جو چیڑ اللہ کے ہاں د پکارڈ ہو جا وہ مہ رکز ضا نہ
ہوگی۔
یہ ے وآ غ ری مر ت سکی طرف ایک موم اپنے اکال ییا ے اور بی وہ قبل ے جن سکی طرف موک کے کر وم لکا رخ موا ہے۔
ای مر کی قوت او ر گر فت بی ان پرایات اور اس ظا مکی قوت او ر گر فت ہو ثی ے اور ا کاانسا ینف اور ا یکی عادات واطوار بل پور ی
ط7
زئ گی یا ہوجاے۔
ہے بات اتم یں مون یک کول بہت کی ہدایات دے با کک ےکوی نظام حیات تج زک ے اک وکی میا تم و مق ماخ مکرے۔ اسل حیات
ایت ال گرفت اور قو تکی ہہو کی ے ج کسی پراییت کسی نظام او ری یی مکی پشتپ مو ہے۔ و وگرفت جس ے ہے تام ورات اور ہے
تام ادارے قوت تافز ہما س کر نے ںان طا ہا کے زنر گی اوران اق ار شی جو ایک انان لیلد سے لھا ے اوران یس جو ایک انسان کے
یس انسانوں سے لبتاے ن وآ سما نکافرق ہوتا ہے۔ ہے اس صورت میس کے دوس ری صفات کے جوانے سے انسا لی نظام اور الی نظام کے
در مان مساوات ف رخ کر لی جاۓ اور ىہ بات ف رت کر لی جات کہ ہے دونوں نظام خہایت جلند اور تر فی یافتہ ہیں اہر کہ ایباف رض کر نا کی
مال اور جنون ہے ۔ الام ےک انسان مو ل ےکہ ہے با تکس کے منہ سے لگ اوہ ےکہ ال کے باارے میں جما ری وی کیا سے اور اس کے
سے یں ہمارے رات ےکیاے۔ ایک طرف او الم اتی مکی بات ے اور دوس رک جاب اسان این انا نکیا بات ہے ۔ اجا ی ضابطہ ند کی
کا ایک قدم اور ہے کی نمانلدان کے دار ے میں اور اس معاشرے میں جے اسلام میا نم دے رہ تھااور یہ مبلا ایی سے اسسلائی نظام حیات
کے سے دہ تاور اس کے اثر ری ز میتی فیک اعا ل کو داشل نہ تھا مادی ہو با یر اوار سے ”ان ہو_ملاحظہ ہو۔
8 : وَانِ امُراةڪاقتو eS َالضُلَخُ مَلوَأحَطْرَتٍ
تقش الھک ان تو تقو قن الل کات ھا ْمَلَو ريا
می رو سر ہے
کر یں بعال بر ہے ۔ شس تک وٹ یکی طرف جل ی مائل ہو جاتے ہیں مان اگ تم لوگ احمان سے ٹیل اور خر اتر ی سےکام لو
ین رک کہ ال ہار ےا رر لے ردا
(آ ت ) “ر ۱۳١١۳۸
اسلائی نظام نے اس سے آمل عور تکی طرف سے بد سلوکی اور ناف ربالی کے بارے میں انون سازز یکر وی ی ۔ اور وہ تماما ظابا کر و ہے
ت کہ اس پہلو یں نقصان پیا ہو نے کے خلا ف تد اہی اختیا ری چا کی ۔ (علاحظہ مو ای پار کی ایت ایآ یات)۔ بیہاں سے ےر ی اور
نافریالیکاذک رکیاجاتاہے۔ جو اون دکی طرف سے ہو 'اور کی وجہ سے عورت کے احتزرام اور عرزت ف کو خطرو مو اور ای کے نیج بیس
خالدان کے تہ مو ےکاخ رش مو اس ل کے ول بدل کے ہیں اور صیلانات اور انات کے اندر تید یآ کی سے ۔ الام ایک الا نام سے جو
موا شی محاللات کے اندر زن گی کے تتام اجا کا احاط کر اے اور جو مشاات اور خط رات بآ کے ہیں ا کو ح لکا سے ۔ الام ان تتام
مان کے انات اور اصول کے مطابقی ح لک رتا ہے اور ای اکم کے مطال تتام اتد اما تک رتا ہے۔
اگ عورت اور مرو کے اند با ہم تعلقات می ںکشی گی می پیر امو ہاے اور طلا کا خطرہ ہو ا ۳ 8 پل رت
دےگا۔ نہ دہ بیو گی ہوگی اور نہ وہ مطلقہ ہوک او اہی صصورت یں دونول کے لیے اس ام ر می عمانعت ہیں ےک دووں ایک دوسرے کے
خلاف بای اور ووسر ے حقو کے اند رھ ووک با سی اخخقا دک رلیں۔ شلا کہ عورت اپے مال اخراجات میں سے ہے موا فک دے باسب
معا فک دے۔ باب کہ اگرزیادہ گور یں موں لو ییو ی ابی با رک و یرہ سے دست بر وار ہو جاے۔ مشلا اگ رکون دوس رک یوک مر وکو ز ہاو ٹر
ہو تڑاں کے حن م کول بی وی دست بردار ہو جاۓ پامشلااس صورت می سکہ معا فکرنے والی و یکو حش حقوق کے انرز اوہ و گی نہ
ری ہو یہ اس صورت می ںکہ عورت قھام احوال اور محاللا کو وک ےکر سور جک رکا لآ زاوی کے سا تج یہ فیصل ہک ےک اس کے لے ہے
حالت طلاثی سے ار سے۔
یت ) “وان ام را خاففت من نلھا نٹو ز ااواع ا ضا فاا جناح کی ان صلی ینس صلی _ (م :ے )٣٢
اگ رکسی عور تکواہنے شوم ر سے پر سلوکی با ےر یکاخطرہ ہو ھکوئی مضا کہ خی سکہ میاں اور بیوئی (چچھھ حقو ق کی کی یی پچ )آ لیس میں )
سرت
یوی سے مج لکی طرف م نے اوی اشار دکیا۔
ال کے بعد کہا جات ےکہ مقلدمہ با زی سے مم ر صورت میں بتر ہو ہے۔ بے ری خت تعلقات اور طلاقن 'سب عالات کے متا لے
میں کی خر ہے۔(دواش خج (۳ :ے٣۱
( بہرعال رج ) کی دجہ سے خنک اور جغایشہ ولول کے اوی ہاو یم کے نے مو کے لے کے ہیں_ الس و عحب کی نم سے
اتم تعلقا کو طراوت آصیہب ہولی ے اور ازووایی تعلقا کو ہا رک ےکا واعیہ پیا موتا ے اور اگ رش ہو کے جہوں اواز دواہگی تعاقات پھر
سے استوار ہو کے ہیں _
اسلام تس اناف کے سا تم مقیقت پپنرانہ معال کرجا ہے۔ وہ تتام ذ الع اور وسا تک يک وکام میں اکر س انسا یکو ایک ایی کک سر بلند
را ہے جس کے لیے اس نے اس کے ہاج اور فطر تکو تیا رکیاسے۔ لین اسلام ان تتام وسا کک وکام میں لات ہو سے ہے بھی پیش نظ رکس
کہ اناف فطرت کے بھی بے دوو ووو ہوتے ہیں۔ الام فطرت انسا لی اور اسای مزا عکو ای ےکا موں پر بور ی ںکرماج ا کی قرت
اور و سحت ے بابر ہوں اسلام لوگو کو ہہ عم نیس وتاک تم ا سے سرو یکو دیواروں سے کڈ اواو یہ سے می را عم اس اسلام میم اہ کرو
کات لیے ما نان یب
اسلائی نظام س اسان یکو اس با تکی اچازت نی وتاک وو یکی حالت پر سے با رات پر رای ہو۔ وہ یے بھی نمی سک رجاکہ انس یکن گی
کے ولرل میں کاو لکک ڈو با ہو 'اور و ہا یکی آم یف و مج رک ے اور اس کے لے جواز ہے ڈعھونڑ ےک انان لطور یقت وات ای طرح
ہے وہای رح کی خی سک اک اسے عام بالا کے سا تج بز مہ رک بائ کہ للکادے اور پر دہ جر ر چاے جو لایر ےکی وک اس
صورت یل اس کے پا کی زین پر نہ موں گے اور تم اس صورت حا لیکو ہے ایی کہ ہے فحت اور سر بائ دی ے۔
اسلام ان انال کے در مان دیع وط ہے ۔ ہے الیا ظام سے جس کے اندر مقیقت پپندانہ واقیت پان ما سے ب یرہ یقت پہن ی ہے۔
ہے نظام انسالن کے سا تہ محامل ہکا ے اور انس کو انان بج ھک معالل کرجا ہے انی فطرت کے اظتبار سے انان یک جیب وق سے
انان ایک ایی شوق ہے جس کے پاؤں ن ی ہیں لان ا لک رد ںآ سانوں پہ ہے۔ ا کی رو اس کے م می بھی ہو کی ہے او رآسانوں
پر بھی ون ے۔ غر مزن ی اور رو ںآ سافوں پر موف ے۔
ہے م د نے مو سے اسسلائی نظام ایک اسان کے سا تر معامل کرجا سے اور اس مھا ےل بی انسا نکی ایک عام ختصوحیی یکاک رک تا ہے- (آ یت )
“ (واحضرت الا ٹس اح (۱۲۸:۴) ( س تک و کی طرف جل ری مال ہو جات ہیں ) مطلب ہے س ےکہ کیک وی دائما لفو ی کے اندر موچوو
مول ے۔ نخس کے ندرگ ول قاعم ر ہتقی ہے ہگ و یک یک اشام ہیں مال میس تنک دیج بات میں ہگ دلی 'زو حا نکی زن دگی م
نس او قات ای-ے اسباب مم ہو جاتے ہیں ج نکی وجہ سے کنل اور کی اکب رآ کی ہے ۔اےے اسباب پییدا ہو جات می ںکہ اون عورت کے
بارے یں خت تک ول ہو جاتا ہے ۔ اب عورت اکر اپنابقایا ہہ رتچھوڑ دے مانضقات معا فک دے با ینادان اد اگکردے اور کا کو باق
رکھوانے ذ موا ر خراب ہو کے سے مل کے اتل لی کہ می مہ بھی و ا ےک عورت اپنے قوق ز نا وشوق بھی معا فکرد پت ےکر
طران لبا پر می سک کی ۔ اگ صورت ہے م وک اون دک یکوکی ووس رکز یادہ وب موی مو اور یکی موی ک٤ازر شم اور جا زگی باق ری ہو
اور عورت نماوند کے جذ با تکاا حا مکر کے ا کو را یکر نے اور اس رح کا بای دہ جائے۔ غ کل ان تتام عالات میں معاملہ یوی کے
اخقیار ہش دے دہاگیاے۔ وہ ار ےک ا یکی مصملجت جس صصورت بی ہو ود اسے اغتیا رک نے ۔ اسسلائی نظام اس پر یٹ لازم یں کرجا بل
ایا کہ دہ ا سے معا سے بیس تر رکر کے کون بتر فیصلہ ا سے تن می ںکر نلے۔
لن اسلام میا کو کنل کے ہوانے بی خی سکردیابکنہ اسے ایک دوصرے طرز لکی طرف بھی بلاتاہے 'اس ل کے پیل می اضسالی
فطر تک غاص قا تمہ یں ے بل احمان اور خدات کی بھی فطرت اسان کے اندر یں ۔
(آ یٹ ) "وان سا وجنقوا فان اٹ ہکان برا عون نیرا( ۴ :ے ۱۲) ( کین اکر تم لوگ احمان سے یآ اور خر اتر کی ےکم لواو لقن
رکوک اللہ ہار ے اس ط رز ل سے بے خر نہ مو گک)
احمان اور قوی یر یآ غر کی واروی ار ے اور احمان اور تقو ی کوت ل ضا نہ م وکا ای لیے ضا نہ م وکاک اد ہکا علم سب چ زول پر عبط
ہے۔ دہ ہر انان کے گل سے بھی تر وار سے اور ای لکی د یش ہے جانے والی نیت سے بھی تر دار سے ۔ س انسا یکو ای طرف پکار نا
کہ تم احمان اور تقو یکو اپتاشعار بنا ارب کہ اللہ تال تام اعمال سے تر دار ے ' مہ ایک ابی بار سے شش س کا لس اناف پ گرا ٹڈ جاے۔
اس ریہ ہر انان لی ککتاے۔ بلہ ہے دہ واحد و کوت و قبن سے جس کے لے م شس بہت جل دی تیار ہو جاتاے۔
ایک باد تم وکت ہی ںکہ اسلائی نظام حیات اناف رن دگی کے الات اور ا یکی وا فی صورت حال کے سا تجھ وای کر تاہے ۔ ہے معاللہ مغای
طور پر یقت پہن د انر ے ہا تیت پہن دنہ مشالیت ہے ۔ الام ان باو ںا عتا فکرجاے جو فطرت انا یکا لاز ی حصصہ ہیں اور ہیں بھی
لو شیدوادر یہ اختراف نہایت بی جب ف زاناز س ے۔
7+ تایان تغيأوا نت ت الیّمَآءِوَلَو عَرَضْهم فايلا كل الَمَيلَكَدَرُوهَا كالمُعَلقَةوَإنْتُضيځۇا
وَتَكُقُوْا فِا نال 32 غفورًا کا O
یوایوں کے درمیان ل رالو اعد لک نا تہارے اس میں ہیں ے۔ تم اہو بھی فذاس پر قاور یں ہو کے للا( قانون ال یکا شاو رہ کر کے
لیے بی کان ےک )ایک ییو کی طرف اس رنہ مک چا کہ دوس رک یکو ادھر لکنا چھوڑ وو' اکر تم ایتا طرز ٹل درست رکو اور الہ سے
ڈرتے ر ہو لو الد کم و یکر نے والا اور رم فرمانے والا سے ۔
یت ) "وا ن ستطیعو ان تھ رادا بن ال آ, ولو تم فر تیلو اکل ایل فتزر وج اکاعاجدوان نوا وستوااغان ادن کان خخورا ریما (۱۴۹)
وان ینف رفاسن ارل رکا صن سحتہ وکان اٹہ واسع اما ”_ )٥۳١(
یولوں کے در میان پور الور اعد لکر نا ہار ے یس میس یں ہے۔ تم اہو بھی لوا ی پر قاور نی ہو کے _ الا( خانون ال یکا ظا و راک نے
یے ب کان ےکہ )ایک ییو یکی طرف اس رنہ جک جا کہ دوس رب یکواو ر الکن چھوڑ وو' اکر تم اپناطرز گل درست رکو اور الد سے
ڈرتے ر ہو الد م وکر نے والاادر رم فرمانے دالاے۔ کان اکر زو ین ایک دوسرے سے الک بی مو ہا اٹہ ایی وس قزرت سے
( برای ککودوسر ےکی اع سے بے میا ز۷ر د ےگا ال رادان بہ کشا ہے اور وودانا وبینا ے_
الد وہ زات ے جس نے انسا کو پی کیا اور وہای پیدااور وہ ای پیداکردہ لو قات کے بارے میں ہے بات ا ی ط رح جانا تھاکہ اس کے بحر
مسلانات اےے ہیں جن پر اس کے لیے تابو پان من یں ہے لب الہ تی نے انان کے پاتھ نی ےکک وڈان ت ون
کے 'ان میلانا تکی رم تکو روو میں ر کے لین ا ہیں اگل ش کر ےک یکو شش کی کر ے۔
ان میلانات یل سے ایک ہے س ےک رکو انان انی درد ہیوایوں شی ےی ای کی طرف زیادد مان مو ہے یلان ابا ہوجاے ج انان
کیا طاقت سے بابر ہوجا سے ۔انسمان اسے خت ھی ںکر کات ا سکع کیا ہے ؟ اسلا مکی تفص سے اس بات پر مواغخزہ کی ںکرجاجھ ا کی
و سحت سے بار ہو۔ نہ اس ےگناہ تراد دتتا اور نہ اس پر سزادیتاہے۔ اس با تکو الام ا سکھاتے بی ڈالتاے جوا سک فرت سے کی مار
ہ۔ چنا نہ اعلا نکر دیا جا ہا کہ تم ای بیولوں کین ل کک کر کون کن کیک
ہا رک قرت سے با ہر ہے۔ ہار ے ارادے میں جو نز وال سے دہ ہے س ےکہ تم مع رک نے میں انصا کرو م الصاف کرو خرچہ
دن میں انصا فکرو' توق ز نا شوگی بیس انصا فکر و' یہہاں ت کہ مسکرانے میں بھی انصا فک و ز بای الفا کے میں بھی انصا کرو ۔ ہے
ہے دہز جم کاتم سے مطال کیا جار اہے۔ یہ ہے دہ یل جو ان میلانا تک وکنزول می رر ےگی۔ ضط مطلوب سے 'میلانا ت کا تی مطلوب
یس ہے۔ (آ ہت ) "فلا تیا واکل ایل خن ور ھاالمعاہ”۔ (۱۲۹:۴) ( ایک یو یکی طرف اس ط رع ماع نہ ہو چاو کہ دوس رب یکوادھر کنا
چچھوژڑوو)
ہے سے وہ بات جس س ےک ماگیاے۔ سی ظا رک محاملات یل ایک طرف جمک جانا۔ اس ط رب جھلناکہ دوس رک کے حقوق مارے جاک نہ
یوک مو اور نہ مطاققہ ۔ اس کے سا ت بی ائل امان کو ایک نہایت بی مو ۓآ واز سے گرا جانا سے ۔
(آییت) “وان موا ؤنخوافان اللرکان غو رار شی ”۔ (۳: ۱۲۹ (اگ رم اپنا طرز گل درست رکھواورابٹر سے ڈرتے ر ہو وار چم شی
کر نے والا اور رت فخرمانے والاے)
الام انسالی س کے سا تھ اس ط رج موا دک رتا ہ ےک وہ ایک ایک ذات ے جو ایک کی گج می اور اس یس رن روح سے پیا کی سے اور
اس کے انہر جو قوتیں اور صا صاش ہیں ان کے اکل مطاان ۔ یز ددانسان کے سا جھ ایک مشالی حقیقت پیندىی با تی مشالیت کے مطالبی اس
ےسا تھ ڈیب کرجا کہ دوایک انان مو یں کے قم زین پر ہوں اور اسے روعاف بائ ری حاصل ہو جنس میں نہ اوتنا ہو اورت ٹوٹ
لوٹ ہو_
بی ے اسلام حضو ر اکر م ( صلی ایل علیہ وآ ل و سلم) انان اتتا سے او کمال یر تھے ۔آپ کے اندر تام قو ہیں متوازن ہیں ام تنا من
ناکرا نکی سز ٹر ے ہن رتگئیں۔
حضو ر اکر م ( صلی اللہ علیہ وآلہ وم ) ازواج رات کے ورمیان شیم اور منصغانہ شش یر فو قاور تھے ایک بیو یکو دوس رک یوک پت د
وی تھے لن ول جز بات کڑو لس کی طاقت یس نہیں ہوتا_ (العم حا ی ماک فو می مال امک ) (اے اللہ ہہ ے یری تیم
ہن معاملات یں می رااخقتیار سے او رآپ کے علامت ن ہکرس ان معاملات ٹیل جو میرے اخقتیار سے با ہیں ) ]شی ول (ایوواد)
ہاں جب ول خت مو ہا یں تعلقات بہت ہو ہا ہیں اور زو کین کے در میان با ہم زن دگی گزار نا مکل ہو ہے فو بچھ رد ائی بی ہت سے ۔ اعلام
زو جا کور سییوں اور ز بییروں بی بان ھکر اکٹھا رکھنا مناسب ہیں تتا نہ قید وبند کے ذر جج زو خی کو اکٹھا رکھا ہا اتا سے ۔ صرف محبت
اور با مرحم دی کے جن بات میس ف ربقو کو باندھاجاسکتا ے با برا کو واجبات اور فراش کی ایام وی اور صن سل وک کے ذر بی یکچ رکھا
جاسکزاے' خصوصااےے ولو ںکو جن کے درمیان نفرت پیداہوچچگی ہو۔ اس ل ےک نفرت کے ففلعوں میں ولو کو بئ ر ی سکیا جاسکتا۔ بیز ہے
حا یب ٹاہ او اتم ان ہواوراندروی طوریے کاٹ ہو۔
ت
لد
0: وَإِن فقا يک الله اشن ىتە و کان اللەُوَا گا کا °
ین اگ رز و جیان ایک دوسرے سے الگ بی ہو ہا یں تاش ایی وس قدرت ے مر ای فکودوسر ےکی ا سے ہے یا نکر و ےگا الث کا
وا بہ تکشادہ ے اور وو وانا فیا جب
(آیت)" وان ہنف رقایشن ال رکا من سعتہ وکان الد واسعا یما ( )۱۳٣ ٣:۳ (اگرز و جن ایک دوسرے سے الگ بی ہو جا ہیں فو اید اتی وس
تات سے ہم رای ککو ووسر ےکی تار سے بے نیا زک و ےگا الک رادان بہ کشارہ ے اور و انا وناے۔)
الد تال دونوں سے وعدوفرماتے ہہ ںکہ وہ اۓ ل اور رمت سے وولو ںکو ی باد ےگا۔ اٹہ تحال ا کے بند ول پر بہت بی وسحت
کر نے والے ہیں اور اۓ روو و کت کے اند د اور برو ںکی صصح تک ہر نظ رسکتتے ہو ے ان کے ل ہکشھا دک یکی جر مقر فرماتے ہیں ہر
م کے حالات کے مطالقی۔
اسلام انسا لی شعور اور شس کے پر شید میلانات کے سا تھے بس رب رجا کر جاے اور یں ط رب زئ ری کے طور طط ربیقو یکو مقیققت پپند کی
کے سا تھ وکیا سے ووا تدر جنر ن کن ےک اکرل وگ رات دن ایلرک شک راداکر میں تو کی ای کے لے اک کن اواکرزتا کن ہیں ےی
ایک اییا نظام سے جس یں اناف سببول ت کا بہت بی خیال رکھاگیااور نظ رآ جا س ےکہ ہے نظام انسانوں کے لے ویز ہو اہے۔ وہ نانو کا پا تر
پک ا کو خہایت :ی کرک ہی عالت سے اٹھاتا ہے اورا یں نہاییت بی مرائ ی کک نے جاتا سے اور ہے کل انسا نکی فطرت کے یں
معان ہوجاے۔ ووان کے لیے بلئ ی اور ر فع کا کو کی ا رکٹ اس وق تکک جب کی ںکرتاج بکک ا نکی فطرت میں اس کے حصول کے
لیے داعیہ نہ ہو اوران کے ہراچ س ا سک یکوکی ن مکو جڑ موجو دنہ ہو ۔ اس طرں اسلام ا کو پھر اک بلند متقا مکک نے جاتا ہے ہا تک
اتی کول دوس افظام نڑیں نے جا کا ےکم وہای طرح مقالی وا قعیت پئ رک با ای واقیت کے سا ت ھکرجاسے جن سک یکو مشالی نہ ہو اور
پر ایی صورت می ںسکہ اس جیب لوق انیا یک اصل طبحت اور مزاع کے مان _
انر انی نشم کے ہے اجام جن چ اق نا زو ی نکی ازدواگی زن گی سے ے اسلای نظام حیا تکا ایک حص ہیں اور اسلائی ظام حیات اس
کا سات کے نا مو اک رکا ایک حصہ ہے جو ایند نے ای اور یکا تات کے اندر جار کی فرمایا ہے ۔ اس لیے اسسلائی نظام بھی ا کا متا تکی فط رت
کے سا تھب مآ نگ سے ج بکہ دوس ری طرف وہ اناف فطرت کے سا تح بھی ب مآ نک ہے۔ اس لی ےک انا کی ا کا نات ن یکا ایک
حص سے اور یہ اسلائی نظام زنر یکا ایت :کہ را ازز ے اس لے عا گی اور خان انی نظام کے مال کے متصل بعد اللہ تال یکا تنا کا کر
فرمات ہیں ننس سے یہ عا کی اجام لور یک نات کے ظام فط رت کے سا کے لوط ہوجاتے ہیں کو ں ط رر انان زت رگ میں اشک
عاکیت ے 'اسی رح ا کا تات ہیں بھی دی عام ے دی ے جو زان وآ سما نکا مالک ے اور ہے دی ذات سے یں نے یں ے احکام
دے ہیں۔ ودی سے جس نے م سے کی اتو کو ہے احکام ہے تے اور ہے تمام احکام اور دصا یا ایک میں اور ایک تی ی سے ہیں اور اسلائی نظام
ایر قا س کہ اس نے ت میس دنیااورآخرت ووتو ںکی بھلاکی نحییب ہو لی ے اور ہے وہ اصول ہیں جو سا ' عل اور خر اتر کی پر استوار
4/٤
رپ
سے کے یی ا ہ١٣ ٢١٢١ ١١٠٣ 6 aE CON ر٢ SR a2 ٢١ سے اخ نے س٤ 1
روا قا نيلو ماف الات وما ف الْاَز ضۂوَکان اللةحَيقا يدا 0 ويو ماف ا لمت وَمَاى الاَزض و گی یاللہء
ت
1 ہہ کم ٤ 71 ہے فا و وو کو و ےر a ہے خی 1 êl
وي اى الشبۈت َمَا ف الْأَزضوَلَفَلوَهَیْتا الَیِمَآوثوا ا لكب من فلكم ويا كم ان اثَقُوا ةوان :133-1
ا
وکیلا ت اِن یما نک ابا الاش وت ار متا و کان انه على ذلك ریا ©
آ ان اور زین می جو ہاگ سے سب الن دن یکا ہے۔ تم سے عب کو مم تاب وی کیا ہیں کی یی ہداب تکی گی اور اب مم کو بھی
ھی ہدای تکرتے ہی ںکہ خداسے ڈرتے مو ےک کر وکین اگرتم نیس ما اؤہ مانو مان وز نکی سا ری چ ړو ںکا کک الد ی ے اور وہ
ے نیاز ےم تھی فکا معن اش می کک سے ان سب چزو ںکاجھآسانوں ٹس ہیں اور جو ز شین یس ہیں او رکا رسا زی کے لیے کی و یکائی
ے۔ اکر وہ چا ے وتم لوگو یکو پٹ اکر تار یہ ووسرو لیکو ےآ ے اور وہ ا یکی اورک قدرت ر تاے
(1 بت) ١٣۳٠ء ٣۱۳۔
ترآ نکمم بیس اجام ونواتی کے بیان کے بعد ہار ارم ہتحتقی بآ کی ےکہ اللد زان وآ سا نکی تنام چی زو ںکا ایک ہے۔ یا یہ لف ظا ےک
آسالوں اور ز میٹوں یں جو پھر سے وہ ایر کے یے ہے بے دولوں امو ایک دور ے کے سا ت لازم وروم ہیں اس لی کہ جو بادشاہ اور ایک
ہوتا ے ' ای کلت بیس اھر اور ہی بھی اس یکا چلنا سے ا سکی ممللت میں جو لوک مت ہیں وہای کے لوم جہوں کے اور ال کا نات میں
چکمہ اللہ و عد د مالک ے اس وجہ سے اس د تیاس صرف ا کا عم ےگا اور ونی لوگوں کے لیے مخانون بنا ےکاحقرار ہوگا۔ وونوں امور
دوسرے کے سا تجھ بے ہے ہیں۔
من لوگوں یکناب انار ی ی ے بیہاں الد تال نے ا نکی وی تک کہ دہ خداسے ڈو میں اور یہ ودعییت اس نشاند ہی کے بع کی س ےک
زین او رآسمانوں کے اندر جھ یگ سے وہ ال رکا سے اس لیے وعیی تکا کن بھی اش کو سے اور تقاون ساز یکا تن الث کو سے لل زا ای سے ڈرو۔
(آیت)" ولل ما فی اوت وای الارض ولقد وصصدناالذ بیع اونوا اکب من یکم وا کم ان اتَقوْاایٹ”۔ )٢۳٣:۳(
آسان اور زین یل جو ہے سے سب الدب یکا ےم سے لہ جن یکو تم کناب دی کیا ہیں بھی کی ہدای ت کی کی اور اب م تکو)
( ھی می ہداب تکرتے ہی ںکہ خداسے ڈرتے مو ےکا کرو
وات ہے ےک مج سکی تاقار ما ل ہو لوگ ای سے ڈرتے ہیں اور خر اتر ی بی دواد سیل سے جس سے "لوں ”کی اصلاح ہو سق
ہے۔ برخ دات ری بی دواع سیل سے جس کے ذر ہی ےکی نظام ”کی اصلاح ہو کت ے اور ا سکی جن یات پ م کر ایا اسنا ے۔ جو لوگ
ا کی اس علیت ٹیس اپٹی حیثی کو نیس پیی سے ا کو ایل خمردارفریاتے ہی ںکہ الد یں اس دنا سے دو رکر کے ا نکی لہ دوس یآ باو یکو
لاک انی کیت میں بسا گے ہیں۔
(آیت)* وانگفروافان شاف اموت وہای الا رش وکان اٹہ فنا حیدا(۱۳۱) ول بای اموت وہای الار ش وک با وکیلا )۱۳٣( ان
نا کم ابھاالناس دیات پاش ین دکان ایند عل ذکک ق۱( ۱۳۳) (FF .٠۳٣:۳(
ان اگرتم نی مات فو نہ مان سان وز نکی سا ری چو ںکاہاکک ال ہی ے اور دہ بے خیاز ے 'م تم رای کا نابل ی کک سے ان سب
نزو ںکاجھآ انوں بیس ہیں اور جو زین میس ہیں او رکارسا زی کے لیے مس و ی کان ے۔ اکر وہ ا اتل وگو یکو پٹ اکر تہارک چ
) ووسرو لیکو ےآ ۓ اور ووا کی ورک قدرت رکھتاے۔
ایند تیال ان ل وگو کو جو وصیر کر ے ہہ ںکہ اللہ سے ڈرو اکر وہ اللہ سے نہ ڈ ری توان اس سے الد تیا یکی ذا تک ھکوٹی نقصان یں متا
۔ اور ووس بکف رکار وے اخقیا رک یی و بھی ای ہکا ای میس چک صان نیش ے اس ل ےک لوگوں کے کف کی وجہ سے ال کی لیت میں س ےکوی
نزک یں ہونی۔(آبیت )"فان لش بای اموت وہای الارض ”۔( ۳ )۱۳١١: (ائلد تق ایک سے ان سب چزو ںکاجھآ سمانوں بیس ہیں اور جوز ممن
ٹیش ہیں ) اور وہ ا ںیھ بھی قرت رکھعنا ےک نہیں یہاں سے چم اککرے او ری او رکو لا ہماے۔ دوجو ا نیکو وص یکر ے و ودا نکی
جلاک کے لی کے ۔ اور ان کے عالا کو درس کر نے کے ل ہکا ہے۔
الام انسا کو ننس رح اس پور یکا نیا تکاس رجا نج قرار دتا ے اور اسا یک یکر ام ت کا اعلا نکر جا ے 'اور تنام ز می نکی لو قات سے اسے
رت قرا دیتا سے ' ای ط رح اگرانمان اٹ دکاکف کر نے ایند انا کو ا یکا نیا تک تین لون قرار ویتاے اس ل کہ وہ الہ کے گم سے
من موڑجا ہے بللہ وہ سنہ زور یکر کے اڈ دکی صفت اکت یل شیک م وکر اس ےآ پکو بیہا کا عام قرا ویتاے ۔ اور وہ اخ مکی اتتا
کے الی اکا ے۔ اسلائی ضور حیات میں ہے دوفوں ہا یں ہر ر ہیں اور حقیقت بھی بی ے۔
بی آ بات ا آعقیب یر اتتا مکو بی ہی ںکہ جو لوگ صرف د نیاوی مقاصد کے لا س کر فار ہیں 'ا نکو معلوم ہو ناچا س ےک ادڈ رکا شل
بہت نک وس ے الد کے ال و ناو رآ غ ت دوفو ںکی لای ے اور جو لوگ و ناپ بی نظ ری جماۓ ٹیے ہیں ا کو چا ی کہ ود انی اظ ری
ذراادگ یک ری اور و ھی کہ الد کے ہاں د ما دآخر تک بھلائی ے۔
(آیت )"عم ن کان پر بد اب الد میا فعند اٹہ واب الد یاوالا خر وکان الث ر سیا بحرا ( ۳ : ٣ ۱۳)
(ج کم کش فواب و تیاکاطالب ہو اسے معلوم ہو زا چا س ےکہ الد کے پاس واب نیا ھی سے اور وا بآخرت بھی اور الد سخ و ایر ے )
ہے ا م ایک وا جع ماقت ماقت اور ایک وا کی ہوک یک انان دنیااو رآ غر ت دوفو ںکامریاپی س س کر کنا ہو اور اسے وناو رآ غ ت
آخرت دوفو کا اج ی ککتا مو اور اکا میا یکی عضانت اسے اسلای نظام زن گی دے بھی رہ مو جو ایک واقیت پند کی اور مغالی نظام ے '
سا اوجود صرف وتات یکی طل بکرے۔ ایی لو ری مت دنا شی بی یں لگادے اور اکل ای ط رح زم ھگی ب کرے جھس
طر جوان' چ ہے او رکیڑ ےکوڑے رن گی رک کے ہیں مالک ہے شف انسافو لکی ط رج بسموات رن گی یس مک رسلا سے اس طر حکہ
اس کے قدم زان پر لے ہوں اور ا کی روآ انوں میں سی رک کی اور پر انی ہو۔ اور اں طر حکہ دہ ایک جاندار موجوددکی رح جو اس
کرہ عرض کے اوپ یق توا نین کے مطاب کک ووو کچھ یکر رپ اہو اود اس کے سا تج سا تھ عام پالا کے سا تی بھی اا کی رن ری کار پا ہو۔
خم رض یہ بت کی اور ضر گی احکام ری رس اسلائی ظام حیات کے اصولوں کے سا تر مر بوط ہیں اوران سے علوم موتا ےک اعلام شی
خائد انی نظا مکی ببت ای امیت ے 'اس قر اتی کہ ان احا مکو ا کا ات کے م معاملات کے سا تج مر بو لک گیا ے اور ان تام اور پر
ہتحتقیب اور تمر ہکی گیا ےک اکر ت لوگ ادڈ کی ان و سیت ںکو تبول ہی سکرتے الد اس بات پر قاد ےک وہ ہیں ش کر وے اور
ہار ی چک کوکی ووس ری لوآ ہا کر دے۔ مہ ایک تہایت بی خط راک تمر ہے اور اس سے ممعلوم موتا س کہ الث کے تز دیک ایک خاندان
کے نظام کے معا لے ل وارد ہونے وانے احکام بھی ای قزر اتم ہیں نس تدر اویا کو وی جانے وای جم ہدیا تکی ابحیت ے۔